مَنتیں

مَیں مَنتوں کی صورتاپنے وجود کیکئی پرتوں کا صدقہکائنات کے سر پہ وار آئی ہوںاور میں دیکھتی ہوں کہمیرے دل سے نکلیان سنی دعائیںروئے زمیں پہ کہیں نہ کہیں سانس لیتی ہیںجیسے میری ایک دعالائپزِگ میں کھڑےسُچے درخت کی ڈال سے جھول رہی ہےجیسے وہ خواہشجسکی جبیں پہنیلا دھاگہ باندھ کے میںپار سال پونچھ میں …

مَنتیں Read More »