مَنتیں

مَیں مَنتوں کی صورت
اپنے وجود کی
کئی پرتوں کا صدقہ
کائنات کے سر پہ وار آئی ہوں
اور میں دیکھتی ہوں کہ
میرے دل سے نکلی
ان سنی دعائیں
روئے زمیں پہ کہیں نہ کہیں سانس لیتی ہیں
جیسے میری ایک دعا
لائپزِگ میں کھڑے
سُچے درخت کی ڈال سے جھول رہی ہے
جیسے وہ خواہش
جسکی جبیں پہ
نیلا دھاگہ باندھ کے میں
پار سال پونچھ میں بہا آئی تھی
میں دیکھتی ہوں کہ پانی کی لہروں تلے
نیلی مچھلیوں کے پیٹ میں وہ بل کھا رہی ہے
جیسے بورن مَتھ قلعے کے دریچے اندر
اپنی انگلیوں سے میں نے کچھ نشاں کھرچے تھے
میں دیکھتی ہوں کے اب ان میں بارش کے قطرے
پرندوں کی اٹکھیلیوں کا ساماں بن رہے ہیں
جیسے سفید اونچے کیلاشی پہاڑ
جنکے دامن میں خشک پتھروں کے نیچے
دعاؤں کے موتی میں چھوڑ آئی ہوں
جانے کائنات کے کس رنگ میں
وہ پھوٹیں گے مِٹی سے گل بن کے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *