نظم

تیرے اندر کی جستجو تیرے اندر ہی تو جلی ہے

تیرے اندر کی جستجو تیرے اندر ہی تو جلی ہےیہ سلگتی ہوئی آگ تو نے خود ہی تو دبئی ہے ویراں خزاں ماتمِ دل کا گلہ کس سےیہ کسوٹی تو نے خود ہی تو لڑی ہے خلوتِ دنیا کی حقیقت تیرے روبرو ہےیہ زیرِ رسائی تو نے خود ہی تو چنی ہے بے قراری کی …

تیرے اندر کی جستجو تیرے اندر ہی تو جلی ہے Read More »

خوشی کی محفل اب پرائی سی لگتی ہے

خوشی کی محفل اب پرائی سی لگتی ہےمجھے اپنی کہانی اب ٹھکرائی سی لگتی ہے خوابوں کی چادر اوڑھے نیند آوریاندیشہ زوال کا منظر دکھائی سی لگتی ہے منزلِ وفا کو پل پل کھوجتی راہبے وفائی سے قدم تھکائی سی لگتی ہے دل کی چوکھٹ پر ناسوری وار دیکھ کرلبوں پر مسکراہٹ روسیاہی سی لگتی …

خوشی کی محفل اب پرائی سی لگتی ہے Read More »

بے چارگی

دلِ بےقرار کو اُلفت نہ کرنے دی ہم نےظلم یہ ہے کہ صحبت بھی نہ مرنے دی ہم نے اُن سے کہوسمجھ بھی جائیں حالِ دلِ بدنصیبتمنا کو لگن، لگن کو حسرت ہونے دی ہم نے اُس خلیجِ نارساں کو پاٹ نہ سکے مگر پھر بھیاِس جاں کو بے خودی خود ہی دی ہم نے …

بے چارگی Read More »

مَنتیں

مَیں مَنتوں کی صورتاپنے وجود کیکئی پرتوں کا صدقہکائنات کے سر پہ وار آئی ہوںاور میں دیکھتی ہوں کہمیرے دل سے نکلیان سنی دعائیںروئے زمیں پہ کہیں نہ کہیں سانس لیتی ہیںجیسے میری ایک دعالائپزِگ میں کھڑےسُچے درخت کی ڈال سے جھول رہی ہےجیسے وہ خواہشجسکی جبیں پہنیلا دھاگہ باندھ کے میںپار سال پونچھ میں …

مَنتیں Read More »