163

کرونا وائرس کے بحران میں جرمنی کی پاکستانی کمیونٹی کی یکجہتی

اسلام علیکم،

کورونا وائرس کی وبا اور دھچکے سے ہماری دنیا ابھی تک سنبھلنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہم سب کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ اس نئی وبا سے بیمار ہونے کے خوف نے ہمارے ذہنوں میں پہلا مقام حاصل کیا، دوسری جگہ مالی پریشانیوں نے لی۔ دنیا بھر کے لاکھوں افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دنیا بھر میں آدھے سے زیادہ کاروبار بھی متاثر ہوئے۔ میرے بھی کام کے اوقات کم اور تنخواہ کم ہوئی ہے.لیکن یہ مضبوط رہنے کا وقت ہے!ہم سب کو خود بھی مضبوط اور مثبت رہنا ہے اور آزمائش کی ان گھڑیوں میں ایک دوسرے کی بھی حوصلہ افزائی اور مدد کرنی ہے! ان شاء اللہ

 اس حوالے سے جرمنی اور یورپ نے جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اتحاد اور یکجہتی کی کئی بہترین مثالیں دیکھیں.جرمنی میں پاکستانی کمیونٹی نے رضاکاروں کی فہرست تیار کی کہ اگر کسی بھی شہر میں کسی بیمار یا بزرگ شہری کو بازار سے سامان یا دوائی لانے میں دقت ہو تو وہ اس لسٹ میں موجود اپنے شہر کے رضاکاروں سے رابطہ کر کے مدد طلب کر سکتے ہیں. ہم تک کئی بہت اچھی مثالیں پہنچی ہیں جن میں لوگوں کو اس سے فائدہ ہوا ہے الحمدللہ. ہم ان تمام افراد کا دل سے سے شکرگزار ہیں  جنہوں نے اس فہرست کی تیاری میں مدد کی اور ان تمام رضاکاروں کا بھی جنہوں نے نام دئیے.

ایک اور اہم مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو جرمنی سے چھٹی گزانے پاکستان گئے ہوئے ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے باعث پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے پاکستان 🇵🇰 میں پھنسے ہوئے ہیں. ان کو جرمنی واپس لانے کے لئے پاکستانی کمیونٹی کے فیسبک گروپوں کے ایڈمنز نے متحد ہو کر *پاکستان کمیونٹی الائنس*  تشکیل دی اور یکجا ہو کر کوشش کی اور کمیونٹی کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات سے ہم نے جرمنی اور پاکستان کی ایمبیسیوں اور حکومتوں سے رابطے کیے اور ان کے اور قطر ائیر لائن اور پی آئی اے کے تعاون سے واپسی کی کچھ خصوصی پروازوں کا بھی آغاز ہو چکا ہے. الحمداللہ. اس الائنس میں موجود افراد کے نام یہ ہیں: شہیلہ بیگ صاحبہ، وسیم بٹ صاحب، راشد ملک صاحب، نعمان توصیف صاحب، حسیب بٹر صاحب، فراز داہر صاحب، احمر منہاس صاحب اور شارق جاوید صاحب.

 اس کے علاوہ بھی بہت ساری مثالیں ہیں جن میں لوگوں نے ہم سے مدد یا راہنمائی کے لیے رابطے کیے جن میں تقریباً سب کیسز میں ہم مدد کر سکے یا اگر مالی نہیں کر سکے تو موثر راہنمائی ضرور کر پائے الحمدللہ. آپ سب کے تعاون کا بےحد شکریہ.

 جرمنی میں اردو ادب کے حوالے سے قائم کیے گئے  ریڈیو اور ٹی وی ویب چینل اردو ریڈیو ڈوئچ لینڈ نے کئی معلوماتی پروگرام کئے جن میں فرینکفرٹ سے ڈاکٹر تسنیم صاحبہ کا ابتدائی دنوں میں اردو زبان میں کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے لائیو سیشن بہت مفید تھا. پاکستانی کمیونٹی نے بڑھ چڑھ کر پاکستان میں بہت سارے فلاحی پراجیکٹس شروع کیے اور اپنے عطیات جمع کروائے. رمضان کے مبارک مہینے کا آغاز ہو چکا ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے بہت سارے مخیر لوگوں نے طلباء اور ضرورت مندوں کے لئے افطار پیکٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے. ان میں ایک قابل ذکر اور اہم مہم ‘رمضان کئیر 2020’ کے نام سے محترمہ سارہ شیخ اور ان کے دوستوں نے شروع کی ہے. 
اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ لوگوں میں پھیلتی بے چینی اور سنسنی اور گھبراہٹ کا تھا جو ہر وقت کی خبروں میں موجود اموات میں لگاتار اضافے سے پیدا ہو رہی تھی اور میں نے بھی چند نیوز رپورٹس بنائیں اور کافی زیادہ لوگوں نے وہ رپورٹس دیکھیں. میرے معزز حسن رضا بھائی جو کہ میرے سینیئر بھی ہیں ہمارے ویب چینل اردو ریڈیو ڈوئچ لینڈ میں، انہوں نے احساس دلایا کہ کورونا نے لوگوں کو نہیں مارنا جتنا کورونا کے خوف نے لوگوں کو مارنا یا پریشان کرنا ہے اور اتنی ہر گھنٹے کی اموات کی تعداد لوگوں تک پہنچانے کی بجائے کچھ مثبت چیز یا میسج لوگوں تک پہنچانا چاہیے. 
اپریل کے آغاز میں ایک جمعہ کی شام کو میں بیٹھا ان کی اس بات پر غور و فکر کر رہا تھا کہ یکدم میرے ذہن میں خیال آیا کہ روزانہ LIVE SHOWS کیوں نہ کئے جائیں جن میں مختلف مہمان ہمارے ناظرین کے لیے مختلف اہم موضوعات  پر بات کریں جس سے وہ کچھ مثبت اور نیا سیکھ سکیں تاکہ اس وقت کو پریشان ہونے کی بجائے اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لے کر آئیں اور ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے بھی رہیں. اب اگلا مرحلہ تھا اچھے مہمان ڈھونڈنا مگر اس میں مجھے اللہ نے بہت مدد کی اور آن لائن 3 ہی دنوں میں پوری دنیا سے 15 سے زیادہ مہمانوں نے میرے شو پر آنے کی دعوت قبول کر لی. الحمداللہ اس ہفتے میں نے اپنا 23 واں لائیو شو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا اور اس سلسلے کا اختتام کر دیا!اس میں میری اہلیہ کا کردار بہت اہم ہے جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا کیونکہ مجھے روزانہ شو کرنے اور اسکی تیاری کرنے میں کئی گھنٹوں کی محنت درکار تھی. 
اگر آپ کو یہ شو پسند آیا اور اگر آپ کی معلومات میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوا، تو میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے ضرور دعا کیجیے گا. زندگی کا کیا بھروسہ. اور اگر آپ اس طرح کے مزید شوز دیکھنا چاہتے ہیں ہو تو براہ کرم اپنی رائے دیں کہ بہتری کیسے لائی جائے اور کن موضوعات پر آپ شو سننا چاہیں گے. شکریہ! 
تمام شوز میرے فیسبک اور یوٹیوب پیجز پر موجود ہیں

https://www.facebook.com/sharique.diary/
آپ کے جوابات کا منتظر رہوں گا!

آپ کا بھائی

 شارق جاوید میونخ جرمنی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کرونا وائرس کے بحران میں جرمنی کی پاکستانی کمیونٹی کی یکجہتی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں