253

ذرا سوچو تو! ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا

ہم چاہتے جیسا جیسا سب ویسا ویسا ہوتا
ذرا سوچو تو ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا

ابتدا سے لے کر اب تک وجود دنیا کی یہ حقیقت ہے کہ یہاں چاہنے اور پانے کی جنگ دستور عام رہی ہے اور بلا کسی روک تھام کے یہ جنگ عظیم تا قیامت تک چلتی رہے گی۔

انسانی نفس کا دروازہ ہمیشہ من چاہی خواہشوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے کھلتا رہے گا اور دروازہ بند بھی کرنا چاہیں تو خواہشات کی آندھی طوفان باد کا روپ اختیار کر لے گی۔

کہتے ہیں جس نے یہ دروازہ ہواؤں کے زور کے باوجود مضبوطی سے بند کر لیا تو سمجھو وہ پار لگ گیا۔اب اس کا مسکن، اس کا دل اور اس کی ذات کالی آندھی کے جھروکوں سے پاک ہو گیی۔واہ۔۔

لیکن کیا کریں لاکھ کوششوں کے باوجود ان ٹھنڈی ہواؤں میں خود کو لہرانے اور ان کے ساتھ جھومنے کا من کرتا ہے۔شاید انسانی وجود کی یہی خصلت ہے تبھی تو حضرت آدم علیہ السلام اس چاہ کی آہ میں غلطی کر بیٹھے۔تو ہم کون ہے؟ ہم بھی تو انہی کی اولاد ہیں۔خواہشیں کرتے ہیں اور انہیں پانے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں اور اس طرح یہ بلی چوہے کا کھیل چلتا رہتا ہے

لیکن کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ یہ کھیل تو ہوتا لیکن کھیل میں ہار کا کوئی پہلو ہی نہ ہوتا۔بارش کے قطرے زمین کو صاف و شفاف تو بناتے لیکن تلاطم خیز ہواہیں گردوغبار کے دھوئیں نا اڑاتی۔منزل مقدر ہوتی لیکن سفر کی دشواریاں پیروں کی تھکن نہ بڑھاتی۔سکھ ہوتا دکھ نہ ہوتا،سچ ہوتا جھوٹ نہ ہوتا، امیری ہوتی غریبی نہ ہوتی، دوست ہوتا دشمن نہ ہوتا، نیکی ہوتی بدی نہ ہوتی، اور سب سے خوبصورت جنت ہوتی دوزخ نہ ہوتی۔

آف! ان لفظوں کو کورےکاغذ پر اتارتے ہوئے تبسم اور خوشی کے ہر رنگ میرے چہرے پر کھل رہے ہیں۔
چلو! آج مسکراہٹ کی محفل سجانے کے لئے من چائے مفروضے بناتے ہیں۔

کہتے ہیں ہر سکھ کے ساتھ دکھ اور دکھ کے ساتھ سکھ کی نسبت ہے۔یہ متضاد الفاظ حقیقی معنوں میں ہر ایک کی زندگی میں مترادف روپ دھارے ہوئے ہیں۔یعنی سکھ ہے تو دکھ کا بھی سامنا ہوگا اور اگر دکھ ہے تو یہ بھی سکھ کی چادر لپیٹے گا۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا یہ سکھ دکھ کی آنکھ مچولی کا تصور ہی نہ ہوتا۔ذرا سوچو کہ اگر ایک ہفتہ چھ دنوں پر مشتمل ہوتا۔ اگر منگل کا دن ہی نہ ہوتا۔تخلیق کائنات کے ساتھ دنوں میں اگر ایک دن منگل نہ ہوتا تو بیماری، دکھ، تکلیف، آزمائش اور مکروہات کا وجود ہی نہ ہوتا۔سکھوں اور خوشیوں سے واقفیت تو ہوتی لیکن غم، مسائل، آزمائش بس اجنبیوں کا روپ ہوتے۔دل مسرتوں کا باغ ہوتا اور دکھ کبھی اس کی باغبانی نہ کرتا۔ ذرا سوچو تو ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا۔

بالی وڈ کے مشہور گیت کے الفاظ ہیں “زندگی کی یہی ریت ہے ہار کے بعد ہی جیت ہے”۔ذرا سوچو زندگی کا ترانہ کچھ ایسا ہوتا “زندگی کی یہی ریت ہے بس جیت ہی جیت ہے” تو کیسا ہوتا۔ زندگی ہمیشہ کھیل کے لئے پکارتی پر اس دعوت نامے میں ہار جیت کا ذکر نہ ہوتا۔زندگی ریس کی کہانی نہ ہوتی۔ جو جیتا وہی سکندر خلاصہ زندگی نہ ہوتا۔ اینول ڈے کی ٹرافیز کچھ ممتاز ناموں کے لیے نہ ہوتی۔کسی کو پاس یا فیل کا ڈر نہ ہوتا۔ترقیاتی راہیں صرف کامیاب لوگوں کا اساسہ نہ ہوتی۔کوئی آگے کوئی پیچھے نہ ہوتا۔سب ایک کشتی کے مسافر ہوتے جس کا پار لگنا تے ہوتا۔ذرا سوچو تو ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا۔

محبت، عشق جو بے قراری اور کرب کا مکمل صحرا ہیں۔ذرا سوچو یہ صحرا برکھا کی رھم جھم اور ماء کی اٹھکیلیوں کی ترجمانی کرتا تو کیسا ہوتا۔محبت، پیار، عشق کی تعریف میں جدائی کا لغت نہ ہوتا۔بےوفائی کا سایہ بھی کبھی اپنی جھلک نہ دکھاتا۔ وفا، قربت، ساتھ، یقین، احساس، امن، خلوص پر منحصر مجموعہ محبت کی عکاسی کرتا۔کوئی رومیوجولیٹ، لیلی مجنوں، ہیر رانجھا، شیریں فریاد محبت کی پھانسی نہ چڑھتا۔محبت کا ذرہ ذرہ ہواؤں میں بن رکاوٹ رقص کرتا۔محبت اور عشق پاکیزگی کی علامت ہوتا۔اس میں کوئی میل یا گندگی کا اندیشہ تک نہ ہوتا۔ہر لو سٹوری کا اینڈ ہیپی ہوتا۔ حقیقی عشق سے روبرو ہونے کا سفر روئی کی طرح ہلکا اور ملائم ہوتا۔ذرا سوچو تو ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا۔

ذرا سوچو یہ جہاں دربار کی مانند تو ہوتا پر اس میں بادشاہ اور فقیر کا امتیاز نہ ہوتا۔ امیر غریب ایک ہی آئینے کے عکس ہوتے۔ملکوں اور انسانوں کو جانچنے کا ترازو مالیت سے سجا نہ ہوتا۔روپیا پیسا من سلوی کی طرح جھولی میں آ پڑتا۔ اللہ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا رواج نہ ہوتا۔چوری چکاری، بھوک، غربت، افلاس، رشوت، ملاوٹ کا تصور خوابوں سے ہوکر بھی نہ گزرتا۔ اونچ نیچ، ذات پات، رنگ نسل، مالک غلام، جیسے تفکر معدوم ہوتے۔ذرا سوچو تو ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا۔

ذرا سوچو اس پرلطف، شفاف، نیک، نفیس، دلفریب مکمل کامل زندگی کا اختتام لازمن جنت کی رونق میں ہوتا تو کیسا ہوتا۔ اڑن طشتری سے جنت کا سفر ہوتا۔بہشت کی گلزاری کا حصہ ہمارا واجبی نصیب ہوتا۔گلستان بہشت کی رنگینیاں تاحیات ساتھی ہوتی۔پل صراط پر چلنے والا کوئی قدم نہ ڈگمگاتا۔جزاوسزا کی مجموعی حقیقت میں صرف جزا کا میوہ شامل ہوتا۔۔عمل شر کا نام ونشان نہ ہوتا اور عمل خیر کی بنا پر ہم جنت کے قیدی ہوتے۔ذرا سوچو تو ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا۔

دعاؤں پر کن، ہمیشہ میرا مقدر ہوتا
ذرا سوچو تو ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “ذرا سوچو تو! ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا

  1. It’s really a great and helpful piece of information. I am glad that you shared this useful info with us. Please keep us up to date like this. Thanks for sharing.

اپنا تبصرہ بھیجیں