خوشی کی محفل اب پرائی سی لگتی ہے

خوشی کی محفل اب پرائی سی لگتی ہے
مجھے اپنی کہانی اب ٹھکرائی سی لگتی ہے

خوابوں کی چادر اوڑھے نیند آوری
اندیشہ زوال کا منظر دکھائی سی لگتی ہے

منزلِ وفا کو پل پل کھوجتی راہ
بے وفائی سے قدم تھکائی سی لگتی ہے

دل کی چوکھٹ پر ناسوری وار دیکھ کر
لبوں پر مسکراہٹ روسیاہی سی لگتی ہے

زندہ رہنے کی بدعت اٹھائے زندگی پر
موت تمسخر اڑاتی تماشائی سی لگتی ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *