228

خوشی کی محفل اب پرائی سی لگتی ہے

خوشی کی محفل اب پرائی سی لگتی ہے
مجھے اپنی کہانی اب ٹھکرائی سی لگتی ہے

خوابوں کی چادر اوڑھے نیند آوری
اندیشہ زوال کا منظر دکھائی سی لگتی ہے

منزلِ وفا کو پل پل کھوجتی راہ
بے وفائی سے قدم تھکائی سی لگتی ہے

دل کی چوکھٹ پر ناسوری وار دیکھ کر
لبوں پر مسکراہٹ روسیاہی سی لگتی ہے

زندہ رہنے کی بدعت اٹھائے زندگی پر
موت تمسخر اڑاتی تماشائی سی لگتی ہے

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں