215

جھیل کی آغوش میں

جمعہ مبارک تھا، دفتر میں کام بہت تھا۔ لیکن دن حسب معمول سست رفتاری سے رینگ رہا تھا۔ ہمارا دل کام کے پہاڑ میں کہاں لگتا کیونکہ ہمیں تو کوہستان کے پہاڑ آوازیں دے رہے تھے۔ یہ سلسلہ کافی دن سے چل رہا تھا لیکن ہم ان آوازوں کو دبائے ہوئے تھے۔ ایسا کرنا آسان نہ تھا، ضروری بہر کیف تھا۔ ابھی تو ہم عید قربان سے واپس آئے تھے، کہاں مینجر کے دل میں ہمارے لئے رحم آتا۔ کچھ دیر یہ کشمکش چلتی رہی اور آخر کار ہم نے دل کے آگے ہتھیار پھینک ہی دئیے۔ اپنے کچھ دوستوں کو ایک مرتبہ پھر کہا چلو آج دودی پت سر چلیں۔ وہ بھی تو ہم جیسے دیوانے ہیں کہنے لگے چلو آج چل ہی دیں۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے مینیجر سے پوچھا، وہ شائد اس دن زیادہ ہی خوش تھے کہنے لگے جاؤ۔ اخیر ستمبر کی حبس آلود دوپہر میں ہم دوستوں نے مزنگ چوک میں ملنے کا منصوبہ بنایا۔ گئے تو ہم کیمپس اور سلیپنگ بیگ لینے تھے، وہاں جا کر مفت رہنمائی بھی مل گئی۔ اللہ بھلا کرے ان ٹور آپریٹرز کا جو ہمیں بے لوث رہنمائی سے نوازتے ہیں۔ ہم نے ان کا مشورہ مان لیا، دودی پت سر کو اگلے سال پر چھوڑا اور واپس دفتر آ گئے۔ باقی دن کا کام مکمل کیا اور واپس آ کر اپنا سامان باندھنے لگے۔ آپ کو کیا لگا کہ ہم ہار مان گئے تھے، نہیں جناب ہم نے تو صرف منزل بدل لی تھی۔

رات اپنے جوبن پر تھی، ذی الحج کا وسط تھا اور چاند پورا پردہ ہٹائے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ وہ بھی ہماری دیوانگی دیکھ کر گنگ تھا یا پھر شاید دل ہی دل میں ہماری لگن کی داد دے رہا تھا۔ تو دوستو یوں ہم لاہور کو خیر باد کہہ کر نکلے رتی گلی کے لئے۔ ہم تمام رات اور دن سفر کرنے کے بعد شام کے وقت رتی گلی بیس کیمپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ شام کے سائے تقریباً ڈھل چکے تھے اب صرف کچھ ہی اجالا باقی تھا۔ ہماری جیپ اس دن آنے والی آخری جیپ تھی۔ ہم نے وہاں رک کر کچھ تصاویر لینے کی ناکام کوشش کی، لیکن ہمارے کیمروں کو بھی ٹھنڈ ہی لگ رہی تھی۔ اس سے ناکام ہو کر ہم نے مقامی لوگوں سے بات چیت شروع کی تو معلوم ہوا کہ ان کے چہروں کی شادابی بے جا نہ تھی۔ وہ خوش تھے کہ دن ڈھلتے ڈھلتے بھی ان کو ایک آخری مہمان دے گیا۔ جو کہ آیا بھی شام ڈھلے ہے، ان کے کیمپ کو رونق بخشے گا اور ان کی جیب کو بھی۔ لیکن ہم ٹھہرے دل توڑنے میں ماہر، ہم نے انہیں بتایا کہ ہم بیس کیمپ میں رکنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہم تو چودھویں کے چاند تلے جھیل کی آغوش میں جا کر ہی کیمپ کریں گے۔ پہلے تو انہوں نے ہمیں ایسے دیکھا جیسے ہم پاگل ہیں، پھر وہ ہم پر ہنسنے لگے۔ ہم بھی ان کے ساتھ مل کر خود پر ہنسے، کیونکہ پاگل تو ہم ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ رات کہ آٹھ بجے یہ کہاں اتنا دم ماریں گے۔ لیکن دم تو ہم نے رتی گلی جھیل کو سلام کر کے ہی لیا۔ ہم وہاں پہنچے کیسے یہ ایک الگ داستان ہے۔

عاصمہ عظمت
Latest posts by عاصمہ عظمت (see all)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “جھیل کی آغوش میں

  1. I found your blog web site on google and check a few of your early posts. Proceed to keep up the superb operate. I simply further up your RSS feed to my MSN Information Reader. In search of ahead to studying more from you in a while!…

  2. I do not even understand how I ended up here, but I assumed this submit was great. I don’t realize who you are but certainly you’re going to a famous blogger in the event you are not already 😉 Cheers!

اپنا تبصرہ بھیجیں