123

تیرے اندر کی جستجو تیرے اندر ہی تو جلی ہے

تیرے اندر کی جستجو تیرے اندر ہی تو جلی ہے
یہ سلگتی ہوئی آگ تو نے خود ہی تو دبئی ہے

ویراں خزاں ماتمِ دل کا گلہ کس سے
یہ کسوٹی تو نے خود ہی تو لڑی ہے

خلوتِ دنیا کی حقیقت تیرے روبرو ہے
یہ زیرِ رسائی تو نے خود ہی تو چنی ہے

بے قراری کی ضد کا دل ممنوں ہے
یہ وجہِ رسوائی تو نے خود ہی تو بُنی ہے

فکرِ جگ میں مدھم ہے راگِ افشاں
یہ روحِ نا آشنائی تو نے خود ہی تو سنی ہے

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں