تیرے اندر کی جستجو تیرے اندر ہی تو جلی ہے

تیرے اندر کی جستجو تیرے اندر ہی تو جلی ہے
یہ سلگتی ہوئی آگ تو نے خود ہی تو دبئی ہے

ویراں خزاں ماتمِ دل کا گلہ کس سے
یہ کسوٹی تو نے خود ہی تو لڑی ہے

خلوتِ دنیا کی حقیقت تیرے روبرو ہے
یہ زیرِ رسائی تو نے خود ہی تو چنی ہے

بے قراری کی ضد کا دل ممنوں ہے
یہ وجہِ رسوائی تو نے خود ہی تو بُنی ہے

فکرِ جگ میں مدھم ہے راگِ افشاں
یہ روحِ نا آشنائی تو نے خود ہی تو سنی ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *