147

بے چارگی

دلِ بےقرار کو اُلفت نہ کرنے دی ہم نے
ظلم یہ ہے کہ صحبت بھی نہ مرنے دی ہم نے

اُن سے کہوسمجھ بھی جائیں حالِ دلِ بدنصیب
تمنا کو لگن، لگن کو حسرت ہونے دی ہم نے

اُس خلیجِ نارساں کو پاٹ نہ سکے مگر پھر بھی
اِس جاں کو بے خودی خود ہی دی ہم نے

نہ تو وہ نہ آشنا رہے اور نہ ہی ہم راز داں
اُن نگاہوں سے جو آنکھیں چار کی ہم نے

اِک لمحے نے سب بھید کھول دیے میرے
ہائے بے اختیاری جو اختیار کی ہم نے

دل کا جام چھلکتے دیر نہ لگی شیریںؔ
لبِ رخسار سے جو آگہی کی ہم نے

اُنہیں ہمارے بھرم سے نہ پل بھر کا واسطہ
بے چارگی میں جام پھر سے بھرنے دی ہم نے

عاصمہ عظمت
Latest posts by عاصمہ عظمت (see all)
کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں