April Fool Corona 380

اپریل فول

چلو! آج کرونا کو اپریل فول بناتے ہیں۔

آج کا دور جدید ٹیکنالوجی کمپیوٹرز، موبائلز، ٹیبلیٹس، لیپ ٹاپس اور اس میں موجود بے شمار ایپس کا دور ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ڈائری لکھنے کا عمل عروج پر تھا۔لوگ روز انہ ڈائری لکھتے اور اس میں اپنی دن بھر کی روٹین اور واقعات درج کرتے تھے۔

آج ایک بار پھر کچھ لکھنے کا دل کیا۔کاغذ اور قلم اٹھایا اور سوچنے لگی کس موضوع کا انتخاب کیا جائے۔پھر دل نے سوچا چھوڑو سارے جھنجٹ کیوں نہ پرانی بھولی بھٹکی عادت کو پھر سے زندہ کرو اور روزمرہ کی سرگرمیوں کو تحریری شکل دو۔

تو بس آج کا موضوع میرا روزنامچہ ہے۔

31 مارچ 2020 کی خوبصورت صبح کا آغاز نمازِ فجر سے کیا۔ناشتے میں چائے پینا بہت پسند ہے۔مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ چائے کی چسکیوں اور جسمانی تازگی کا آپس میں گہرا تعلق ے۔ صبح ویسے ہی وقت کم مقابلہ سخت والی صورتحال ہوتی ہے تو یو جلدی جلدی کپڑے بدلے. پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہوں۔ اس لیے آج اپنا پسندیدہ لباس زیب تن کیا۔چہرے کو نکھارنے کے لیے اہلکا میک اپ بھی کیا۔

کیونکہ یہ تو لازم ہے کہ سٹوڈنٹس کے کلر ڈے پر ان کی ٹیچر بھی خوبصورت رنگوں میں نظر آئے۔ 7.30 پر سکول پہنچی تو دیکھا کہ طالبات موسم بہار کی مناسبت سے خوب شوقین رنگ کے ملبوسات زیب تن کیے آرہی ہیں۔آج کا دن جو کہ پڑھائی کے لیے نہیں تھا۔اسکول آج باغ کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں طالبات کی شکل میں رنگ رنگ کے پھول کھلے ہوئے تھے۔یہ پھول مستی، موج میں جھوم رہے تھے اور ہم ٹیچرز باغباں کے کردار میں ڈھلی یہ ساری خوشیاں انجوائے کر رہی تھی۔

دوپہر کے دو بجے چھٹی کے وقت گھر جاتے ہوئے راستے میں بھرپور ٹریفک نے سارا موڈ خراب کر دیا اور اس پر اماں کا فون کہ آتے ہوئے کچھ پھل خرید لانا۔۔پھل بھی خریدے تو بندہ کس سے خریدے اور کس کو چھوڑ ے۔۔ ایک ہی سمت میں، ایک ہی لائن میں آن گنت پھلوں کے ‏ٹھیلے۔۔بس جوں توں کرکے پھل خریدا اور گھر پہنچی۔

گھر میں مہمانوں کے روپ میں اپنے کزنز کو دیکھا تو سارا موڈ خوشی میں بدل گیا۔ خوب گرم جوشی کے ساتھ ہم آپس میں ملے اور بس گپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کچھ دیر بعد تفریح کے لیے پارک کا رک کیا۔ پارک میں رش کی وجہ سے جھولوں پر تو جگہ نہ ملی لیکن گول گپوں اور چارٹ نے تفریح کا حق ادا کردیا۔ شام کے 6.00 بجے مہمانوں کو رخصت کیا اور کچھ گھر کے کاموں کے بعد ٹی وی کے سامنے بیٹھی۔ ملکی موضوعات میں دلچسپی کے باعث سیاسی پروگرامز دیکھنے کا معمول ہے۔ان پروگرامز میں سیاسی جماعتوں کے مختلف رہنماؤں اور ان کی سیاسی چپقلش دیکھنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔

آج بھی کہیں ایک جگہ عمران خان کی سیاست پر بات ہو رہی تھی تو دوسری جگہ شریف خاندان کی واپسی پر، کہیں امریکہ کا الیکشن اور افغان امریکہ مذاکرات موضوع تھا، تو کہیں کشمیر کا کرفیو اور بھارت کے اندرونی تنازعات پر بحث و مباحثہ چل رہا تھا۔

رات 9 بجے کے خبرنامہ میں بتایا کہ مسیحی برادری 10 اپریل کو ایسٹر تہوار منانے کی تیاریوں میں مگن ہے۔ بازاروں میں خریداری عروج پر ہے۔جشن بہاراں، ہولی اور ایسٹرجیسے تہواروں کے باعث بازاروں ،ریسٹورنٹس اورتفریحی مقامات پر رش بڑھ گیا ہے۔۔

دن کے اختتام پر اور بستر پر لیٹنے سے پہلے فیس بک پر ان لائن ہوئی تو دنیا بھر میں ایسٹر کی تیاریوں اور مختلف سلیبرٹیز کی بیرونی ملک چھٹیاں گزارنے کی پوسٹ دیکھی۔

بس آج کے دن کی یہی مصروفیات رہی جنہیں اس وقت لکھتے ہوئے لفظوں کی تسبیح میں پرو رہی ہوں۔۔اس کے ساتھ ہی گڈ نائٹ، شب بخیر۔۔

ارے! نہیں، نہیں، رکھیے۔۔۔ یہ بلاگ تو کل پبلش ہوگا اور اس ایک جملے کے بغیر یہ پبلش ہوگا نہ مکمل تصور کیا جائے گااور وہ جملہ ہے:

‘April fool Corona’

ہا ہا ہا۔۔۔

سوچیے یہاں عام سی زندگی جو کبھی ہمارا مقدر تھی اب کتنی خاص اور نایاب لگنے لگی ہے۔۔اس روٹھی ہوئی آزاد زندگی کا تصور بھی اب کتنا خوبصورت اور معنی خیز لگتا ہے۔

تو چلو ایسا کرتے ہیں اس بار خود کو اپریل فول بناتے ہیں اور ان روزمرہ کے سادہ، عام واقعات اور لمحات میں چلے جاتے ہیں جو کبھی ہمارا معمول ہوتے تھے۔وہ خواہشوں سے لپٹی، برق رفتار زندہ زندگی سے آنکھ ملاتے ہیں۔چلو آج کرونا کو بیوقوف بنا کر وہی سچی جھوٹی، رولاتی ہنساتی، تگ ودو کرتی الجھی سلجھی اپنی پرانی زندگی کو گلے لگاتے ہیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپریل فول” ایک تبصرہ

  1. When I originally commented I clicked the -Notify me when new comments are added- checkbox and now each time a comment is added I get four emails with the same comment. Is there any way you can remove me from that service? Thanks!

اپنا تبصرہ بھیجیں